گوادر ( پ ر ) سمندری طوفا ن پھٹ سے متاثرہ علاقوں میں بلو چ کمکار کی سر گرمیاں جاری ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں تین سومتاثرہ گھرانوں کو راشن اور چٹائی فراہم کردیے گئے ہیں دیگر فلاحی اداروں کی معاونت سے شامیانے بھی تقسیم کیے گئے ہیں ‘ پشکان اور جیمڑی میں متاثرین کو تعمیراتی کاموں میں مدد فراہم کر نے کے حوالے سے منصوبہ بندی کی جارہیہے ۔ اس سلسلے میں بلوچ کمکار کے ریلیف آپریشنل انچارج یونس انور نے اخبارات کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچ کمکار اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے متاثرین کی ضرورت کے مطابق ان کو مددفراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ہمارا مقصد نمائشی او ر مہم جویانہ انداز میں امدادی سر گرمی کر کے محض روحانی تسکین یا سیاسی مفادات حاصل کرنا نہیں بلکہ متاثرین کو حقیقی معنوں میں امداد فراہم کرنا ہے ۔امدادتقسیم اور وصول کرنے کے لیے علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھارہی ہیں ۔ بلوچ کمکارسائنسی طریقے کار کے مطابق متاثرہ علاقو ں میں امدادی سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ سروے بھی کررہی ہے اس لیے ہمارے کمکارمتاثرین کی ضرورتوں کو کسی بھی دوسری تنظیم سے زیادہ جانتے ہیں ۔طوفان نےبڑی تباہی مچائی ہے سر کار نے چشم پوشی کر کے سارا بوجھ سماجی اداروںپر ڈالا ہے کوئی بھی ادارہ تمام متاثرینکے مکمل نقصانا ت کا ازالہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔لوگوں کو اب خوراک اور صحت کی سہولیات سے زیادہ سر چھپانے کے لیے چھت چاہئے بلوچ کمکار کو ملنے والی امداد کافی نہیں مخیر حضرات مدد کریں تو زیادہ بہتر اور پائیدار طریقے سے مستقل بنیادوں پر لوگوں کی مدد کی جاسکتی ہے ۔ناکافی وسائل کی وجہ سے بلوچ کمکار لوگوں کو محض پردہ کے لیے پلاسٹک کے شیٹس اور چٹائی فراہم کر نے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے اگر مزید وسائل حاصل ہوں تو بے گھر لوگوں کی مستقل بحالی کا بندوبست بھی ہوسکتاہے ۔بلوچستان میں ہم خیال تنظیموں کی معاونت جو کیمپس لگائے گئے ہیں وہاں سے حاصل کی جانے والے نقد امدادی رقوم اگر آپریشنل ہیڈ کوارٹر کے منصوبے کے عین مطابق خر چ ہوں تو اہداف سے قریب تر ہوسکتے ہیں ورنہ کم وسائل غیر ضروری سر گرمیوں میں خرچ کرنے کی وجہ سے ضائع ہوسکتے ہیں ۔ابتدائی طور پر تین سو متاثرہ گھرانوں میں تقسیم کیے جانے والے امداد گوادر میں 180متاثرہ خاندان ‘کپر کلانچ میں100 اور سر بندن میں35متاثرہ گھرانوں میں تقسیم کیے گئے ہیں ۔
Thursday, June 17, 2010
Sunday, June 13, 2010
سمندری طوفان سے نمٹنے کے لیے سر کاری سطح پر اُٹھائے گئے اقدامات غیر سنجیدہ اور ناکافی ہیں
گوادر( پ ر ) بلوچ کمکارکی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیاہے کہ سمندر ی طوفان پٹ کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے سر کاری سطح پر اٹھائے گئے اقدامات غیر سنجیدہ اور ناکافی ہیں ۔این ڈی ایم اے کی طرف سے طوفان کو معمولی نوعیت کاطوفان قرار دینے پر غیر سر کاری فلاحی اداروں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہواہے ۔اتنے بڑے سانحے سے نمٹنے کے لیے کسی بھی این جی اوز کے پاس وسائل کافی نہیں کم وسائل میں بہتر کام کے لیے مقامی اور بن الاقوامی این جی اوزکے درمیانی رابطہ کاری پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وسائل کو ضائع ہونے سے بچایاجاسکے۔علاقے میں کا م کرنے والے این جی اوز کے ساتھ معاونت کو تیار ہیں مشتر کہ طور پر امداد ی سر گرمیا ں کرنے سے متاثرین کی مجموعی تعداد کی فلاحی تنظیموں کے درمیان تقسیم ہونے سے زیادہ متاثرین کی امدادیقینی بنائی جاسکتی ہے ۔ بلوچ کمکار شہری علاقوں میں متاثرین کو تعمیراتی حوالے سے مدد فراہم کرنے اور دیہی علاقوں میں پید اہونے والے وبائی امراض کے تدارک کےلیے اقدامات کو ترجیع دیتی ہے لیکن ناکافی وسائل کی وجہ سے اب تک باقاعد تعمیراتی امداد لکا سلسلہ شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔ تاہم بلوچ کمکار کے رضاکار متاثرین کے ساتھ مل کر اُن کی بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں ۔بلوچ کمکار کا مقصد مالی مدد فراہم کرنے کے علاوہ لوگوں میں اپنی مدد آپ کا جذبہ پید اکر کے سخت حالات کامقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنا ہے ۔ بلوچ کمکار نے مخیر حضرات سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بلوچ کمکار کی دل کھول کر امداد کریں کیوں کہ اتنی بڑے نقصان میں کم وسائل کے ساتھ کا م کا آغاز کرنا مشکل ہے ۔اگر وسائل جمع کیے بغیر کیے خرچ شروع کیا جائے تو اُن کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ۔ تاہم جلد ہی متاثرہ علاقوں میں بلوچ کمکار کی میڈیکل ٹیمیں روانہ کی جائیں گی ۔
این ڈی ایم اے کے پنجابی سر براہ نے مکران طوفان کو کمتر درجہ کا قرار د ے کر پکی بلوچ دشمنی کا ثبوت دیا
گوادر ( پ ر ) پاکستان کے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ا یم اے )کے پنجابی سر براہ نے مکرا ن میں تباہی مچانے والے سمندری طوفان کو درجہ سوئم (تھرڈ کیٹگری ) کا طوفان قرار دے کر پکی بلوچ دشمنی کا ثبوت دیاہے‘ پاکستانی فورسز بلوچستان کے آفت زدہ علاقوں میںامداد کے نام پر متاثرین کی تذلیل کرر ہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار بلوچ کمکار کے یہاں گوادر میں متاثرین کے امدادکے حوالے سے قائم آپریشنل ہیڈ کوارٹر سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا گیاہے ۔ بیان میں کہا گیاہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں آنے والے سمندری طوفان پٹ کی وجہ سے گوادر ، جیمڑی ، پسنی اور کیچ کے پچاس سے زائد گاﺅں صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں ۔کروڑوں مالیت کی درجنوں ماہی گیری کشتیاںٹوٹچکی ہیں ۔ دس ہزار سے زائد گھر مکمل طور پر تباہ جب کہ متاثرہ علاقوں میں ستر فیصد سے زائد مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچ چکاہے جن کومحفوظ رہائش کے قابل بنانے کے لیے مرمت کر نا ضروری ہے۔بہت سے علاقوں میں ابھی تک زمینی راستے بحال نہیں ہوسکے ہیں نہ نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے سروے مکمل ہیں ۔این ڈی ایم اے کے سربراہ کا ایک فضائی جائزے کے بعد سمندری طوفان کو درجہ سوئم کا طوفان قرار دینا بلوچوں کے ساتھ پاکستان کے مخاصمانہ رویے کااظہار ہے ۔علاقے کے نقصانات کا مکمل انداہ لگانے کے لیے سروے کرنے میںکئی ہفتے درکار ہیں ۔عالمی ادارے پاکستانی اداروں کے اپیل پر امداد اُن کے حوالے ہرگز نہ کریں فورسز کے ذریعے تقسیم کی جانے والی امدادکا مقصد لوگوں کو نفسیاتی طور پر دباﺅ میں رکھنا اور تذلیل کرنا ہے ۔گزشتہ دنوں جیمڑی نیول بیس میں راشن تقسیم کرتے ہوئے قطار میں کھڑی ہوئی عورتوں سے نیوی اہلکارنہایت بد تمیزی سے پیش آئے ۔موبائل کے ذریعے عورتوں کی تصویری بنائی گئیں اور ایک عورت کو تپڑبھی مارا گیا جو انہتائی غیر اخلاقی حرکتیں ہیں ۔بلوچ کمکار نے متاثرین سے اپیل کی ہے کہ فورسز کی طرف سے راشن تقسیم کے دوران قطاروں میں بلوچ خواتین ہرگز نہ جائیں امداد کے بہانے بلوچ خواتین کی تذلیلناقابل برداشت ہے ۔عالمی فلاحی ادارے پاکستانی اداروں کو امدادفراہم کرنے کی بجائے خود مقامی بلوچ اداروں کے ساتھ مل کر امدادی سر گرمیوں میں حصہ لیں ۔
Friday, June 11, 2010
بلوچ کمکار کے مزید کیمپس
کوئٹہ +کراچی ( پ ر ) بلوچ ساحلی علاقوں میں پیٹ سائیکلون سے متاثرہ لوگوں کے امداد کے لیے بلوچ کمکار کی طرف سے کوئٹہ ( ریلیف ریجن ڈی ) میں ابتدائی طور پر تین امدادی کیمپس لگائے گئے ہیں ۔کراچی میں ملا عیسیٰ گوٹھ ملیر اور میراناکہ لیاری میں دومزیدامدادی کیمپس قائم کئے گئے۔ جب کہ نوشکی ( ریلیف ریجن سی ) میں آج کیمپس لگائے جائیں گے ۔درایں اثنا ءبلوچ کمکار ، ریلیف ریجن اے کراچی کے ریجن ریلیف کیمپس انچارجز اسحاق رحیم اور سلیم نے کراچی میں لگائے گئے تمام کیمپس کا دورہ کیا ۔انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ بلوچ کمکار کراچی ریجن کے جھد کار نہایت محنت اور مہارت کے ساتھ امداداکھٹا کررہے ہیں ۔ کراچی کے مخیر بلوچوں سے ربطے کا بہتر ین طریقہ اختیارکرنے کی وجہ سے امکان ہے کہ کراچی سے قابل ذکر امداد اکھٹا کیا جائے گا ۔کراچی میں بلوچ جھدکار کے رضاکاروں کی اکثریت بی ایس او( آزاد ) اور بی این ایم کے کارکنان پر مشتمل ہے ۔
بلوچ کمکار کے امدادی کیمپس
کوئٹہ +گوادر ( پ ر ) بلوچ کمکارکی طرف سے بلوچ ساحلی علاقوں او ر دشت میں آنے والے طوفان کے متاثرین کے لیے کراچی اور تربت میں امدادی کیمس قائم کیے گئے ہیں۔ آج بلوچستان کے مزید علاقوں میں کیمس لگائے جائیں گے ۔بلوچ کمکار نے امداداکھٹاکرنے کے لیے اب تک سات امدادی ریجن قائم کیے ہیں ۔ جن میں ریجن اے۔ کراچی میں لیاری ، گولیمار،تارولین، جھانگیر روڈ ، ملیر 15اور کاٹھور ملیر اور ریجن بی ۔ کیچ میں تربت ، تمپ اور مندمیں کیمپس لگائے گئے ہیں ۔جب کہ ریجن سی ۔ نوشکی ، ریجن ڈی ۔ کوئٹہ ، ریجن ای ۔خضدار، ریجن ایف ۔قلات اور ریجن جی ۔پنجگور میں آج مزید امدادی کیمپس لگائے جائیں گے کیے جائیں گے ۔اس سلسلے میں ریجن ریلیف کیمپس انچار جز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آج یقینی طور پر کیمپس لگائیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سر گرمیاں فوری طورپر شروع کی جاسکیں ۔ درایں اثناءبلوچ کمکار کے آپریشنل ہیڈ کوارٹر گوادر میں بلوچ کمکار کے ریلیف آپریشنل انچارج کی زیر صدارت رضاکاروں کا اجلاس ہو اجس میں متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔اجلاس میں یہ با ت سامنے آئی کہ متاثرہ علاقوں میں سب سے بڑ امسئلہ لوگوں کو چار دیواری اور گھروں کی تعمیرات کے لیے امداد فراہم کرنا ہے ۔ امکان ہے کہ زمینی رابطے بحال ہونے پر متاثرعلاقوں میں اشیاءخورد نوش کی قلت دور ہوجائے گی ۔اجلاس میں تعمیرات کے لیے لوگوں کو سستے مزدور فراہم کرنے پر بھی غور کیا گیا اجلاس کے شرکا ءنے اس بات پر اتفاق کیا کہ ٹرانسپورٹ کے غیر ضروری اخراجات سے بچنے کے لیے امدادی کیمپس میں سامان اکھٹاکرنے کی بجائے نقد امداد اکھٹا کیاجائے جنہیں متاثرہ علاقوں کی ضرورت کے مطابق استعمال میں لایاجائے گا ۔
بلوچ کمکار نے بلوچ ساحل پر سمندری طوفان پٹ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سر گرمیوں کے حوالے سے اپنا منصوبہ تیار کر لیا
گوادر ( پ ر ) بلوچ کمکار نے بلوچ ساحل پر سمندری طوفان پٹ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سر گرمیوں کے حوالے سے اپنا منصوبہ تیار کر لیا ہے ۔منصوبے کا نام ”ریلیف بلوچ کوسٹ 2010“رکھا گیا ہے ۔منصوبے کے مطابق گوادر آپریشنل زون اور ریلف ہیڈ کوارٹر ہوگا جسے ”او۔ریجن “ کا نام دیا گیاہے ۔ او ریجن بلوچ ساحل کے علاوہ تمام متاثرہ علاقوں پر مشتمل ہوگا۔ امدادی کیمپوں کی مانٹیرنگ اور وہاں سے حاصل ہونے والے امداد کو شفاف طور پر خرچ کرنے کے لیے بڑے شہروں اور علاقوں کومختلف ریجنوں میں تقسیم کیاجائے گا ۔جن کے نگران ریجن ریلیف کیمپس انچارج ( آر آر سی انچارچ ) ہوں گے ۔ پہلا”ریلیف ریجن اے “کے نام سے کراچی میں قائم کیا گیاہے جہاں آج ابتدائی طور پر پانچ سے زائد امدادی کیمپس لگائے جائیں گے ۔ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے آج سے سروے بھی شروع کیے جائیں گے ۔ بلوچ کمکار کے اب تک کے حاصل شد ہ ابتدائی سروے کے مطابق طوفان باد وباراں سے سب سے زیادہ نقصان پسنی کے نواحی علاقوں اور کلمت میں ہو اہے ۔ جہاں بارش کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے علاوہ سمندرکا پانی گاﺅں میں داخل ہونے سے بھی کافی نقصان ہواہے ۔گوادر ، پشکان ، جیمڑی ، سر بندن اور پسنی شہر میں ہونے والے رہائشی آبادیوںکے نقصانات کاتخمینہ اندازاً 30کروڑ روپے لگایا گیاہے جوکہ ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد کو ہونے والے معاشی نقصان اور دیہی علاقوں میں ہونے والے نقصان کے علاوہ ہے ۔ مجموعی نقصان 3.5ارب سے زیادہ کا ہوسکتاہے ۔ پشکان میں کی جانے والی بلوچ کمکار کے ابتدائی سروے کے مطابق صرف پشکان قصبے میں 60چاردیواری اور 450سے زائد مکانات گر چکے ہیں ۔ جیمڑی میں تمام بارانی کھیتوں کیے بندات ٹوٹ چکے ہیں ۔300سے زائدچاردیواری 60 مکانات ، 70باتھ روم مکمل طور پر گر چکے ہیں 80اسپیڈ بوٹس بھی ڈوب چکے ہیں ۔ صرف جیمڑی میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تین کروڑ روپے لگایا گیاہے۔ متاثرہ لوگوںکی اکثریت غریبوںکی ہے جوموثرامداد کی بغیر اپنے گھر دوبارہ تعمیر نہیں کر پائیں گے ۔موسمی تبدلیوں کے باعث ضروری ہوگیاہے کہ دیہی علاقوں میں سروے کر اکے آبادیاں منتقل کی جائیں اور شہرعلاقوں کے لیے بلڈنگ کوڈ بناکر اُن کے مطابق تعمیرات کی جائیںتاکہ مستقبل میں ہونے والے طوفان باد وباراں سے جو ان علاقوں میں معمول بن چکے ہیں ہونے والے ممکنہ نقصانات کو کم کیا جاسکے ۔
سمندری طوفان پٹ نے گوادر ، جمیڑی ، اورپسنی میں شدید تباہی پھیلائی ہے
گوادر ( پ ر ) بلوچ کمکار کے بیان کے مطابق سمندری طوفان پٹ نے گوادر ، جمیڑی ، اورپسنی میں شدید تباہی پھیلائی ہے ۔ تیز آندھی اور بارش کی وجہ سے چالیس سے زائد گاﺅں زیرآب آچکے ہیں ۔ حالیہ طوفان باد وباراں کی شدت 2007کے طوفان سے کئی گنا زیادہ ہے مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ اتنی تیز اور دیر تک بر سنے والی بارش اس سے پہلے کبھی نہ انہوں نے دیکھی ہے نہ اس کے متعلقسنا ہے ۔ نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے بلوچ کمکار کے رضاکار سروے کریںگے جس کے بعد متاثرین کی مدد کے لیے بلوچ کمکار کی طرف سے کیمپس لگائے جائیں گے ۔پاکستانی حکومت پر اعتماد نہیں عالمی ادارے مدد کریں ۔2007کیچ کے سیلاب زدگان تاحال کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں 2007میں بلوچستان حکومت کی اپیل کے باوجود عالمی امدادی اداروں کو بلوچستان میں کا م نہیں کرنے دیا گیا ۔ایف سی نے بلوچ کمکار اور دیگر مقامی امدادی تنظیموں کی طرف سے کی جانے والی سر گرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کیں اور امدادی سامان تقسیم کرنے سے منع کرتے رہے ۔ اس دفعہ اگرسابقہ رویے کا مظاہرہ کیا گیاتو متاثرین کے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ حکومت کی طرف سے گمرا ہ کن معلومات فراہم کرنے اور الیکڑونک میڈیاپر بلوچستان کی بجائے سندھ میں شدت کے ساتھ طوفان کی مسلسل خبریں چلانے کی وجہ سے مکران کے لوگ بر وقت حفاظتی انتظامات نہ کر سکے ۔ محکمہ موسمیات کے سمندر ی طوفان کے بارے میں معلومات غلط ثابت ہوئیں بارش نے طوفان سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا۔ کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں جن کے لیے تاحال کوئی امدادی سر گرمی شروع نہیں کی جاسکی نہ ہی اُن کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اطلاعات فراہم کی گئیں تھیں ۔ الیکڑانک میڈیا پر ڈی آئی جی ایف سی کے ذریعے ہنگامی حالات کے لیے تیاریاںمکمل ہونے کی خبر چلا کر میڈیا نے بلوچستان سے متعلق ایک مرتبہ پھر پیشہ ورانہ بددیانتی کامظاہرہ کیا ۔پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ ہونے کی دعویدار ٹی وی چینل کے رپورٹر جس وقت انتظامیہ کی مدح سرائی کر رہاتھا ۔ اس وقت جیمڑی کے قریب واقع گاﺅں پانوان مکمل زیر آب آچکا تھا اور جیمڑی کے قریب ڈوبنے والی لانچ میں سوار افراد کو کل شام پانچ بجے تک بچانے کے انتظامات نہ کیے جاسکے مذکورہ لانچ کے ڈوبنے کی صورت ذمہ دار متعلقہ ادارے ہوں گے ۔فورسز نے بارش اور طوفان سے متاثرہ لوگوں کومدد کرنے کی بجائے مشکلات میں اضافہ کیا ۔ پشکان میں کوسٹ گارڈ نے تلاشی کے بہانے ماہی گیروںکی کشتیاں نکالنے میں رکاوٹیں پید اکیں او ر شہر کے درمیان کیمپ لگاکر لوگوں کونفسیاتی دباﺅ کا شکار بنایا ۔ پلیری میں ایف سی اہلکار ڈوبتے ہوئے لوگوں کو مدد دینے کی بجائے بندوق کے زور پر خود اُن سے مدد لینے پہنچ گئے جنہوں نے یہ کہہ کر ایف سی والوں کے مدد سے انکار کیاکہ ہم خود ڈوب رہے ہیں تمہاری کیا مدد کریں گے ۔ پاکستان نیوی نے گوادر میں اپنی کشتیوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کی کوشش میں سمندر میں پھنس کر رہ جانے والے ماہی گیروں کی مدد سے صاف انکار کردیاجنہیں بعدازاں اپنے مدد آپ کے تحت نکالنے کی کوشش کی ۔طوفان نے گوادر کے نواحی علاقوں میں نقصان پہنچانے کے علاوہ کیچ دشت کفکفار اور گرد نواح علاقوں میں تباہی پھیلا ئی ہے کئی دیہات ڈوب گئے اور ہزاروں لوگ تیزبارش میں کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں ۔