گوادر ( اخبارات ) سمندری طوفان اور بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ضلع گوادر میں دس رو زبعد بھی زندگی معمول پر نہ آسکی ۔فصلیں اور باغات زیرآب ہونے سے ضلع پسنی میں زراعت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہوگیاہے ۔جب کہ کئی علاقوں میں جراثیم کش اسپرے نہ کیے جانے کے سبب مختلف بیماریاں پھیلنے لگیں گزشتہ روز گوادر شہراور پشکان سمیت کچھ مقامات پر سر کاری وغیر سر کاری تنظیموں کی جانب سے امدادی سامان تقسیم توکیاگیالیکن اکثر علاقوں میں گیارہ روز گزرنے کے باوجود متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔طوفان اور بارشوں کی وجہ سے کشتیاں ٹوٹ جانے کے سبب متعدد ماہی گیر بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ گوادر اور قرب وجوار کے بیشتر علاقوں میں بارش کا پانی کھڑا ہونے سے وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں ۔ کئی متاثرہ علاقوں میں تاحال جراثیم کش اسپرے نہیں کیا گیاہے جس کے سبب مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔
Monday, June 14, 2010
گوادر ‘ سمندری طوفان کے دس روز بعد بھی زندگی معمول پرنہیں
Sunday, June 13, 2010
گوادر ‘ سر کار پاکستان کی طرف سے متاثرین کو اکتوبر زلزلہ زدگان کی ادویات فراہم
گوادر ( توار بیورورپورٹ ) وبائی امراضکے تدراک کے لیے ادویات کی کھیپ گوادر پہنچ گئی ۔زلزلہ زدگان کے لیے بھیجی گئی یونانی ادویات بھی شامل ۔تفصیلات کے مطابق سمندر ی طوفان کے بعد ہونے والی بارشوں سے جنم لینے والی مختلف وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے حکومت قدرت متحرک دکھائی دی رہی ہے اس ضمن میں گزشتہ روز حکومت بلوچستان اور یونیسیف کی جانب سے ادویات کی کھیپ ڈی ایچ کیوہسپتال گوادر پہنچ گئی مگر حیرت انگیز امر یہ بھی تھاکہ مذکورہ ادویات کی کھیپ میں اکتوبر 2005کے زلزلہ زدگان کے لیے بھجوائی گئی ادویات شامل تھیں جن پر نظر کمزور ہونے اور جسمانی طاقت بڑھانے کے حوالے سے ہدایت درج لیکن معیاد ختم ہونے کے حوالے سے کوئی تاریخ درج نہیں ہے تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ ادویات کی وبائی امراض ختم کرنت کے لیے کوئی تاثیر نہیں یہ بیکار ہیں ۔وبائی امراض کے پھیلا ﺅ کے پیش نظر ادویات کی اس کھیپ کو قلیل قرار دیا جارہاہے ۔
گوادر : طوفان متاثرین پر ایف سی کی فائرنگ ‘ پولیس کی شیلنگ
گوادر +پسنی ( توار بیورورپورٹس) گوادر میں طوفا نی بارشوں سے پیداہونے والی تباہ کن صورتحا ل پر قابوپانے کے لیے آج دسویں روز بھی تمام متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں ۔تاہم حکومت کی جانب سے خصوصی پیکج کا اعلان نہ ہونے پر متاثرین سرا پا احتجاج ہیں ۔گوادر کے متاثرہ علاقوں جیمڑی اور پشکان سمیت دیگر علاقوں میں زمینی رابطے بحال ہونے پر صورتحال میں بہتری دیکھی جارہی ہے ۔تاہم اکثر علاقوںمیں امداد کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف لوگوں کا احتجاج بھی جاری ہے ۔ ماہی گیر ی کا کام بھی متاثرہ ہیں ۔ ماہی گیروں نے معاشی امداد کے حوالے سے خصوصی پیکج کا مطالبہ کیا ہے ۔متاثرین نے کہناہے کہ حکومت کے امداد زمین پر نظر نہیں آرہے ۔ متاثرین نے امدادی سامانکے گودام کے باہر غیر منصفانہ امدادکی تقسیم کے خلاف احتجاج کیا ۔ایف سی احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی جب کہ پولیس نے آنسوگیس کی شیلنگ کی۔
حکومتی وزیر نے بھی این ڈی ایم اے کے پنجابی سربراہ کا بیان مستر د کردیا ‘گوادر میں عوامی املاک کے نقصانات کا ذمہ دار جی ڈی کی تعمیرات بھی ہوسکتے ہیں ‘
گوادر( اخبارات )وزیراعظم پاکستان کے خصوصی نمائندے وفاقی وزیر برائے امور حیوانات وخوراک میر ہمایوں کرد نے یہاں گوادر میں قیام کے دوران صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) نے طوفان کے بعد جو تجزیاتی بیان جاری کیاہے وہ زمینی حقائق اور واقعات سے روگردانی ہے ۔ یہاں جو تباہی کے اثرات پھیلے ہیں وہ دل ہلانے والے ہیں کئی ہزار لوگ بے گھر ہوچکے ہیں ۔انہوں نے اس امر پر تاسف کااظہار کیا کہ این ڈی ایم اے کے چیئر مین نے صرف متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ کر کے تباہی کو کم تر درجے کا قرار دیاہے لیکن زمین پر زندگی کربناک ہے ۔
پسنی ‘متاثرین کے امداد حوالے سر کاری دعوﺅں کی قلعی کھل گئی
پسنی ( اخبارات ) پسنی میں سمندری طوفان کو ایک ہفتہ گزرنے کےبعد متاثرین کی امدادکی سر کاری دعوﺅں کی قلعی کھل گئی ۔سمندر ی طوفان پٹ کی تباکاریوں سے پسنی کے سینکڑوں لوگوں کے مکانات اور مضافاتی علاقوں کے بندات ومال مویشی وغیرہ کی سیلاب کے نذر ہوجانے کے ایک ہفتے بعد مختلف این جی اوز کی جانب سے کھانے پینے کی اشیاءتقسیم کی گئی لیکن حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔متعدد کشتیا ں اور لانچ ٹوٹ چکی ہیں غریب مکانات گرنے سے کھلے آسمان تلے آگئے ہیں ۔